خبريں

آیت اللہ مکارم شیرازی:ظہور سے قبل ایک نہیں بلکہ کئی دجال آئیں گے

ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق حضرت آیت اللہ مکارم شیرازی نے کل رات حرم امام رضا علیہ السلام کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے امام عصر (عج) کے ظہور کے حقیقی منتظرین کی خصوصیات کے بارے میں احادیث شریفہ کے حوالے سے کہا: یہ ممکن نہیں ہے کہ ہماری شادیاں، ہمارے گھر، ہمارا بازار اور ہمارے ذرائع ابلاغ گناہ آلود ہوں اور ہم منتظر بھی کہلوائیں۔
انھوں نے زور دے کر کہا: یہ انتظار جھوٹا انتظار ہے اور اس کی مثال یہ ہے کہ ہم اپنے گھر میں مہمان بلائیں اور اپنے گھر کی صفائی اور ستھرائی کا اہتمام نہ کریں اور مہمان کی میزبانی اور پذیرائی کے لئے تیاری نہ کریں اور گھر میں ایسے ہی بیٹھے رہیں اور کہتے رہیں کہ ہم مہمان کا انتظار کررہے ہیں، واضح ہے کہ اس طرح کا انتظار جھوٹا انتظار ہے۔  آیت اللہ العظمی مکارم شیرازی نے مہدویت اور انتظار کی آفات اور اس سلسلے میں بعض لوگوں کی فریبکاریوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: بعض روایات میں ہے کہ ظہور سے قبل ایک نہیں بلکہ کئی دجال آئیں گے۔  انھوں نے وضاحت کی کہ عربی لغت میں دجال سے مراد دھوکے باز، فریبکار اور مکار شخص ہے اور ہمیں یہ بات ذہن نشین کرلینی چاہئے کہ گوہر جتنا بھی گرانبہا اور گران قیمت ہوگا خطرات بھی اتے ہی زیادہ ہونگے۔
انھوں نے کہا: سننے میں آیا ہے کہ بعض لوگ مہدویت کی بحث میں ـ معاذاللہ ـ مالی مفادات کے حصول اور اخلاقی بے راہرویوں کو آگے بڑھانے کے لئے لوگوں کے پاک عقائد سے ناجائز فائدے اٹھاتے ہیں اور لوگوں کو دھوکہ دیتے ہیں؛ بعض لوگ اپنے آپ کو امام زمانہ (عج) کا نمائندہ بنا کر پیش کرتے ہیں، بعض لوگ کہتے ہیں کہ وہ ہر شب خواب میں امام زمانہ (عج) کی زیارت کرتے ہیں؛ بعض کہتے ہیں کہ امام زمانہ (عج) کی طرف سے پیغام لائے ہیں اور کوئی آکر کہتا ہے کہ
وہ
مہدی موعود ہے! 
حضرت آیت اللہ العظمی مکارم شیرازی نے دشمنوں کی سازشوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: بعض دشمنوں نے تجویز دی تھی کہ 11 ستمبر کی دن کو "قرآن سوزی کا دن" قرار دیا جائے اور اس روز قرآن مجید اکٹھے کرکے جلائے جائیں؛ خدا جرائم پیشہ وہابیوں پر لعنت کرے جو اپنے اعمال و کردار سے اسلام کو تشدد پسند دین کے طور پر دنیا والوں کے سامنے پیش کرتے ہیں۔
انھوں نے اندرونی اتحاد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دشمنان اسلام، اسلام اور مسلمانوں کے خلاف متحد ہوگئے ہیں ہمیں بھی متحد ہونا چاہئے اور عقل و تدبیر کا بھی حکم ہے کہ آج کا دن مسلمانوں کے درمیان اختلاف کا دن نہیں ہے، اختلاف زہر قاتل ہے اور ہم خداوند متعال سے چاہتے ہیں کہ ہمارے دلوں کو ایک دوسرے سے قریب و قریب تر کردے۔

مستند خبر:
بشکریہ ابنا نیوز">بشکریہ ابنا نیوز
(7/29/2010)
امام زمان (عج) کے ہم نشین آیت اللہ بہاء الدین کی ایک یاد

آیت اللہ بہاء الدین رحمۃ اللہ کی برسی کی مناسبت سے امام زمان علیہ السلام سے انکی ملاقات کا ایک واقعہ انکی یاد میں نقل کیا جاتا ہے:

ایک دفعہ آپ نے فرمایا: تقریبا میں ساٹھ سال کا تھا امام زمان علیہ السلام سے ملاقات کی آرزو تھی ۔ایک دفعہ مریضی اور نقاہت کی حالت میں اپنے کمرے میں سویا ہوا تھا کہ ایک دم امام علیہ السلام کمرے میں تشریف لایے اور بڑے زور سے سلام کیا کہ آج تک ساٹھ سالوں میں کسی نے مجھے اس انداز میں سلام نہ کیا تھا۔

میں ایسا گبھرایا کہ مجھے پتہ نہ چلا کہ میں نے انہیں سلام کا جواب بھی دیا تھا یا نہ۔ امام علیہ السلام نے تبسم فرمایا اور میری احوال پرسی کی اور اسی دروازے سے تشریف لے گیے

مستند خبر:
بشکریہ زیرو ٹایم">بشکریہ زیرو ٹایم
(7/28/2010)
عظیم عید مبارک

عالم انسانیت کے نجات دھندہ آخری حجت الہی امام مہدی عجل اللہ فرجہ کی ولادت باسعادت پر تمام عالم اسلام خصوصاً مومنین کرام کو عید مبارک ہو  ۔

امامت ايک الہي آفتاب ہے کہ جو ديني و روحاني اور تمام پہلوؤں ميں زندگي بخشتاہے ۔ تاريخ کے اوراق گواہ ہيں کہ پیروان حق  نے ہميشہ اسي عقيدہ سے تمسک کيا اوراسي کو صراط مستقيم جانا اس کائنات ميں اپنے سفر کا آغاز کيا۔ بلاشبہ اسلام ميں مکتب تشيع کا سرچشمہ  ٬ اس کي حيات٬ اس کا کمال و ارتقاء اور اس کي بقاء اس عظيم قرآني حقيقت اورپيغمبراکرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم  کي يادگار سنت سے وابستہ ہے۔

تمام آئمہ اہلبيت عليھم السلام ميں بارہويں امام خصوصي صفات اور فضائل کے مالک ہيں فقط وہ ذات ہے کہ جو پوري دنيا کو ظلم و ستم سے تاريک ہونے کے بعد عدل و انصاف کے نور سے روشن کرد ےگي۔

امام مہدي عليہ السلام سلسلہ امامت کي آخري کڑي ٬ آخري الہي ذخيرہ٬ تمام رسالتوں کا ثمرہ٬ تمام کمالات و فضائل کا سرچشمہ٬ ہرخير و نيکي کا مرکز اور تمام اچھائيوں اورخوبصورتيوں کي تجلي گاہ ہے۔

مہدويت دنيا کے مستقبل کا ايک حسين افق٬ انسانوں کے مستقبل اور آنے والے انسانوں کے لئے پر مسرت نويداور اس کرہ خاکي کے تمام مظلوموں  کے دل کي آواز ہے۔عقيدہ مہدويت طول تاريخ ميں تمام شيعہ تحريکوں اور بالخصوص ايران کے اسلامي انقلاب کي کاميابي کا راز ہے۔

اس ميں کوئي شک و ترديد نہيں کہ موضوع مہدويت اپني بہت سي منفرد خصوصيات کي بناء پر معاشرتي وثقافتي ترقي ميں ايک بہترين عامل ہے اور اسے اگر درست انداز سے پيش کيا جائے تو اسلامي معاشرہ ہر قسم کے فساد و تباہي سے محفوظ ہوجائے گا۔

يہ وہي عظيم عقيدہ ہے کہ جو ہر مسلمان کو جاہليت کي موت سے نجات ديتاہے جيساکہ سرور کائنات نے فرمايا:"مَنْ مَاتَ وَ لَمْ يَعْرِفْ اِمَامَ زَمَانِہِ مَاتَ مِيْتَۃً جَاھَلِيْۃ"( کمال الدين وتمام النعمہ (شيخ صدوق) ج٢٬ ص٤٠٩٬ صحيح بخاري٬ ج٥ ٬ ص ١٣ ٬ صحيح مسلم ج٦ ٬ ص٢١ ٬ ٢٢.)

ترجمہ:جو شخص اس حال ميں مرا کہ اپنے زمانے کے امام کي معرفت (شناخت) نہ رکھتاہو۔ وہ جہالت کي موت مرا۔

امام زمانہ عج اللہ فرجہ الشريف کي معرفت کا حصول٬ اس کی نشرو اشاعت اور ان کي مرضي و خشنودي ميں قدم بڑھانا در اصل اس عظيم عہد سے وفا بھي ہے کہ جو آئمہ عليہ السلام نے ہم شيعوں سے ليا تھا کہ جس کا تذکرہ احاديث اہلبيت عليھم السلام  ميں کثرت سے ہوا۔

خود امام عصر عج اللہ فرجہ الشريف فرماتے ہيں:

اگر ہمارے شيعہ اللہ تعالي انہيں راہ اطاعت ميں توفيقات سے نوازے ٬ اپنے عہد سے وفا کريں اور ہمدل و با عزم ہوں تو ان سے ہمارے ديدار کي نعمت دور نہیں رہے گي اور جلد ہم سے سچي اور مکمل معرفت رکھتے ہوئے ملاقات کي سعادت حاصل کريں گے۔(احتجاج٬ ج٢ ٬ ص٦٠٠)

ہميں فخر ہے کہ اللہ تعالي نے حضرت محمد صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم  اور آل محمدعلھيم السلام کو ہمارے امام قرار ديتے ہوئے ہميں ان کے عہد ولايت سے منسلک کرديا اور اور ان کي اطاعت و پيروي ميں اس دين حق کے لئے ہماري ہر عبادت اور قرباني کو قبول کرنے کا وعدہ کيا۔ آج ہم اقلیم ولايتِ کے آخري تاجدار عالمي عدالت کے پرچمدار اور فرزند رسول امام مہدي عليہ السلام کي ولايت سے تمسک ٬ ان کي مسيحا  ذات سے توسل اور دين الہي اور عالمي عدل  کے نفاذ ميں ان کي مکمل پيروي و اطاعت کا عہد کرتے ہيں۔

مستند خبر:
مہدویت نیوز">مہدویت نیوز
(7/26/2010)
آیت اللہ صافی گکپایگانی کا عشرہ مہدویت کے عنوان سے پیغام

ماہ شعبان کے پربرکت ایام میں امام زمان علیہ السلام سے منسوب عشرہ مہدویت کہ جو پوری دنیا میں نہایت زوروشور سے منایا جارہا ہے اس عشرہ امام زمان علیہ السلام کی مناسبت سے مشہور محق ومولف اور فقہی مرجع آیت اللہ صافی گلپایگانی نے عالم تشیع کے نام اپنے پیغام میں فرماتے ہیں:

ہم پروردگار متعال کے شکرگزار ہیں کہ ہمیں ہر سال پہلے سے زیادہ حضرت صاحب الامر بقیۃ اللہ المہدی کے ایام شایان شان  اور اہتمام  سے منانے کی توفیق عنایت کرتا ہے اور ہمارے قلوب کا رخ انکے پرنور وجود کی طرف موڑتا ہے اور انکے  بابرکت وجود سے ناامیدی کو امید اور امید کو اشتیاق میں بدل دیتا ہے

اس پیغام میں آیا ہے:اس دور میں اگرچہ معنوی خلاء اور پست حیوانی رجہانات بڑھ رہے ہیں لیکن انکے مدمقابل اہلبیت علیہم السلام کے عظیم سلالہ ۔یوسف زہراء علیہا السلام اور امام حسین کی نسل طیبہ سے نویں فرزند جو کاینات میں تنہا الہی نجات دہندہ اور عالمی مصلح ہیں ان پر ایمان دل وجان کو روشن، افکار وخیالات  کو توحیدی منزل اور عقیدہ کو استحکام بخشتا ہےایمان و عقیدہ کا یہ مہدوی قلعہ دشمن کے ہر ناپاک اور باطل حملوں کو ناکام اور نابود کردیتا ہے

آپ مزید فرماتے ہیں:امید ہے کہ اس سال بھی امام زمان علیہ السلام کی ولادت باسعادت کے مراسم بے پناہ عظمت ومعنویت سے  بجا لایے جاییں گے اور تمام منتظرین مہدویت درگاہ الہی میں دل کی گہرایی اور نہایت عجز و تضرع سے حجت الہی ،منجی الہی اور تمام مظلوموں اور ستم دیدہ کی تنہا امید کے جلد ظہور کی دعا کریں گے۔

مستند خبر:
بشکریہ شیعہ نیوز">بشکریہ شیعہ نیوز
(7/24/2010)
آیت اللہ وحید خراسانی: نیمہ شعبان ۱۱ بجے دعاے فرج پڑھیں

قم المقدس کے بلند پایہ مرجع عالیقدر آیت اللہ العظمی وحید خراسانی  احادیث وروایات کی رو سے نیمہ شعبان کے فضایل ، اعمال اور انکا اجروثواب بیان کرتے ہوے تاکید فرماتے ہیں:تمام مومنین اور مومنات کے لیے اس عظیم ومقدس شب میں ضروری ہے کہ سورہ یس کی تلاوت اور اسے حضرت ولی عصر عجل اللہ فرجہ الشریف کی بارگاہ میں ہدیہ کرنے کے بعد زیارت سلام علی آل یس پڑہی جایے اور اسکے بعد ٹھیک ۱۱ بجے دعایے فرج پڑھیں اور پروردگار متعال کی درگاہ میں اس عظیم مولود منجی اور مصلح عالم کے ظہور کی تعجیل کیلیے دعا کریں۔

مستند خبر:
بشکریہ شیعہ نیوز">بشکریہ شیعہ نیوز
(7/18/2010)
گذشتہ خبریں